انٹرنیشنل نیوزڈیسک: اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی میں تیزی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں درجنوں امریکی کارگو طیارے اسلحہ، میزائل اور دیگر فوجی سازوسامان لے کر اسرائیل پہنچے اور مختلف فوجی اڈوں پر اتارے گئے ہیں۔ رپورٹس میں ان نقل و حمل کو ایران کے خلاف ممکنہ نئی جنگی تیاریوں سے جوڑا جا رہا ہے۔
امریکی کارگو طیاروں کی آمد کو خطے میں غیر معمولی پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ نیویارک ٹائمز نے بھی رپورٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل نے عراق میں دو خفیہ اڈے قائم کیے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت خطے کی پہلے ہی کشیدہ صورتحال کو مزید جنمز دے سکتی ہے۔
دوسری جانب ایران نے کھلی وارننگ جاری کی ہے کہ کسی بھی ممکنہ حملے یا دباؤ کا سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ ایران نے متحدہ عرب امارات کو بھی خبردار کیا ہے کہ وہ کسی سازش میں شامل نہ ہو، جبکہ خطے میں جنگ بندی اور سفارتی کوششوں کے مستقبل پر سوالات شدت سے اُٹھ رہے ہیں۔
اب تک امریکی یا اسرائیلی حکام کی جانب سے ان رپورٹس پر باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی عسکری اور سفارتی کشیدگی کے باعث کسی بھی لمحے صورت حال مزید بگڑ سکتی ہے، اس لیے علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر پیش رفت پر نظر رکھنا ضروری ہے۔

