انٹرنیشنل نیوزڈیسک: اقوامِ متحدہ میں امریکی مندوب مائیکل والٹز نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ دورے کے بعد چین نے ایران کے ساتھ اپنی پالیسی میں پیچھے ہٹنا شروع کر دیا ہے۔ والٹز نے کہا کہ چین نے ایران کے جوہری ہتھیار نہ بنانے اور آبنائے ہرمز پر ٹول ٹیکس نہ لگانے پر اتفاق کیا ہے۔
والٹز کے اس دعوے کو اقوامِ متحدہ میں دہرایا گیا، جہاں انہوں نے چین کے رویے میں تبدیلی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بیجنگ اور واشنگٹن کے درمیان حالیہ ملاقاتوں کے بعد چین نے ایران کے معاملات میں سخت پالیسی اختیار کرنے سے گریز کیا ہے۔
چین کے ردعمل میں، اقوامِ متحدہ میں چین کے سفیر نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق امریکی قرارداد کا متن اور وقت مناسب نہیں ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ اس مرحلے پر دونوں فریقوں کو سنجیدہ اور نیک نیتی پر مبنی مذاکرات کی طرف آمادہ کرنا زیادہ مددگار ہوگا اور ایسی صورتحال میں قرارداد منظور کرنا فائدہ مند ثابت نہیں ہوگا۔
اسی دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ "چین کے ساتھ بڑے تجارتی معاہدے ہوئے، ہمارے تعلقات بہترین ہیں”۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی جانب سے کی گئی جنگ بندی کی بات براہِ راست حمایت نہیں تھی بلکہ دیگر اقوام کے کہنے پر وہ جنگ بندی کی طرف آئے، اور ان کے بقول یہ جنگ بندی پاکستان کے لیے ایک نوازش تھی۔
یہ خبروں میں آنے والے دعوے اور ردعمل عالمی سفارتی حلقوں میں بحث کا موضوع بن گئے ہیں، جبکہ اقوامِ متحدہ میں معاملے کے حل کے لیے سیاسی گفتگواور مذاکرات پر زور دیا جا رہا ہے۔


