اسلامک انفارمیشن ڈیسک:قرآنِ مجید کی سب سے خوبصورت اور دل کو متاثر کرنے والی سورتوں میں The Quran کا خاص مقام ہے۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ بار بار ایک ہی سوال دہراتا ہے:
فَبِاَىِّ اٰلَاۤءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ
“اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟”
یہ آیت سورۂ رحمٰن میں کئی مرتبہ آئی ہے، اور ہر بار انسان اور جنات کو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی یاد دہانی کروائی گئی ہے۔
“آلاء” کا مطلب کیا ہے؟
عربی زبان میں “آلاء” سے مراد:
نعمتیں
احسانات
قدرت کی نشانیاں
رحمتیں
یعنی اللہ تعالیٰ انسان سے پوچھ رہا ہے:
“میں نے تمہیں بے شمار نعمتیں دیں، زندگی دی، رزق دیا، آنکھیں، دل، عقل، محبت، ہوا، پانی، زمین، آسمان، قرآن اور ہدایت دی — پھر تم آخر کس کس نعمت کا انکار کرو گے؟”
اس آیت میں “تم دونوں” سے کون مراد ہیں؟
آیت میں لفظ “کُمَا” استعمال ہوا ہے، جس سے مراد:
انسان
جنات
یعنی اللہ تعالیٰ دونوں مخلوقات کو مخاطب کر کے اپنی نعمتوں پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔
اس آیت کا اصل پیغام:
یہ صرف ایک سوال نہیں بلکہ:
غور و فکر کی دعوت ہے
شکرگزاری کا سبق ہے
اللہ کی رحمت کو پہچاننے کا پیغام ہے
انسان اکثر اپنی مشکلات کو یاد رکھتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں کو بھول جاتا ہے۔ یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہماری پوری زندگی اللہ کے احسانات سے بھری ہوئی ہے۔
سورۂ رحمٰن کی خوبصورتی:
اس سورت میں:
جنت کا ذکر ہے
جہنم سے خبردار کیا گیا ہے
قدرت کی نشانیاں بیان کی گئی ہیں
سمندر، آسمان، پھل، موتی، ستارے اور زمین کی نعمتوں کا ذکر ہے
اور ہر نعمت کے بعد یہی سوال دہرایا گیا:
“پھر تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟”
ایمان افروز نکتہ:
جب صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم یہ آیت سنتے تو دل نرم ہو جاتے اور اللہ کی نعمتوں پر شکر ادا کرتے۔ ایک مومن کے لیے یہ آیت صرف تلاوت نہیں بلکہ زندگی بدل دینے والا پیغام ہے۔
روحانی پیغام:
اللہ کی ہر نعمت شکر کی مستحق ہے
ناشکری انسان کو غفلت میں ڈال دیتی ہے
قرآن انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے
اللہ کی رحمتیں انسان کے تصور سے بھی زیادہ ہیں


