اتوار, 25 اکتوبر 2026
  • Home  
  • ایک عظیم سوال…اور نبی کریمﷺ کا ایمان افروز جواب
- تازہ ترین - صراطِ مستقیم

ایک عظیم سوال…اور نبی کریمﷺ کا ایمان افروز جواب

نبی کریم ﷺ کا ایمان افروز جواب

اسلامک انفارمیشن ڈیسک:ایک مرتبہ صحابیٔ رسول حضرت ابو رزین عقیلی رضی اللہ عنہ نے بارگاہِ نبوت میں عرض کیا: "یا رسول اللہﷺ ! ہمارا رب، آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے سے پہلے کہاں تھا؟” یہ ایسا سوال تھا جو انسان کی فطری جستجو، عقل، اور رب تعالیٰ کی معرفت سے جڑا ہوا ہے۔

تب حضرت محمدﷺ نے فرمایا: "كانَ في عَماءٍ، ما فوقَه هواءٌ وما تحتَه هواءٌ، ثم خلق عرشَه على الماء” "اللہ تعالیٰ اُس وقت ایک ایسی حالت میں تھا کہ اُس کے اوپر بھی کچھ نہ تھا اور نیچے بھی کچھ نہ تھا، پھر اُس نے اپنا عرش پانی پر پیدا فرمایا۔”

اس حدیث سے ہمیں کیا سیکھنے کو ملتا ہے؟ • اللّٰہ تعالیٰ ہمیشہ سے ہے وہ کسی جگہ، زمانے یا مخلوق کا محتاج نہیں۔ زمین، آسمان، عرش، پانی سب اُس کی مخلوق ہیں۔ •

اللّٰہ کی ذات ہماری عقل سے بلند ہے انسان محدود ہے، جبکہ اللّٰہ لا محدود۔ ہم اُس کی نعمتوں کو سمجھ سکتے ہیں، مگر اُس کی ذات کی مکمل حقیقت کو نہیں۔ • عرش کا پیدا کیا جانا حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے سب سے پہلے اپنے عرش کو پانی پر پیدا فرمایا، جیسا کہ قرآن میں بھی آتا ہے: وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ "اور اُس کا عرش پانی پر تھا۔” (سورۃ ہود: 7)

ایمان کا حسن یہ ہے کہ بندہ اللّٰہ کو دیکھے بغیر اُس پر یقین رکھے اُس کی قدرت پر ایمان لائے، اور یہ سمجھے کہ ربِّ کائنات ہمیشہ سے تھا اور ہمیشہ رہے گا۔ کبھی کبھی ایک سوال انسان کے ایمان کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔