اتوار, 25 اکتوبر 2026
  • Home  
  • سینیٹ کمیٹی کا سندھ کے غیرملکی فنڈڈ منصوبوں میں مبینہ کرپشن پر سخت نوٹس
- اسلام آباد - پاکستان - تازہ ترین - سندھ

سینیٹ کمیٹی کا سندھ کے غیرملکی فنڈڈ منصوبوں میں مبینہ کرپشن پر سخت نوٹس

سندھ غیر ملکی فنڈڈ کرپشن

ویب نیوز ڈیسک:
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور نے سندھ میں غیرملکی فنڈ سے چلنے والے منصوبوں میں مبینہ کرپشن، کراچی ماس ٹرانزٹ منصوبوں میں تاخیر اور پاور ڈویژن کی جانب سے بحال کردہ وصولیوں میں عدم تعمیل پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ اجلاس سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی صدارت میں ہوا۔

کمیٹی نے بتایا کہ سندھ میں بڑے پیمانے پر مبینہ بے ضابطگیاں قابلِ تشویش ہیں اور ان کی روک تھام میں ناکامی پر چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈپارٹمنٹ، حکومتِ سندھ کو قوم کے سامنے جوابدہ قرار دینے کی ضرورت ہے۔ کمیٹی نے اقتصادی امور ڈویژن (ای اے ڈی) کو ہدایت کی کہ چیف سیکرٹری سندھ کو باضابطہ خط لکھا جائے تاکہ چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈپارٹمنٹ آئندہ اجلاسوں میں شرکت کریں اور سندھ کے غیرملکی فنڈڈ منصوبوں کے بارے میں کمیٹی کو بریفنگ دیں۔

کمیٹی نے سفارش کی کہ وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور کو بھی ان خدشات سے آگاہ کیا جائے تاکہ غیرملکی فنڈڈ منصوبوں میں ملوث افسران کے خلاف سخت کارروائی ممکن بنائی جا سکے اور شفافیت، موثر چیک اینڈ بیلنس اور احتساب کے نظام کو یقینی بنایا جائے۔ کمیٹی نے ای اے ڈی کو اپنی سابقہ سفارش دہرائی کہ ایک مخصوص مانیٹرنگ ڈیسک قائم کیا جائے جو ٹینڈرنگ کے عمل کا جائزہ لے، بے ضابطگیوں کے خطرات کم کرے اور ڈونر ایجنسیوں کے اشتراک سے چلنے والے منصوبوں کی موثر نگرانی کرے۔

اجلاس میں پاور ڈویژن کی جانب سے میسرز جی ای (M/s GE) سے 20.8 ارب روپے کی وصولی اور 765 کے وی داسو–اسلام آباد ٹرانسمیشن لائن منصوبے میں متعلقہ اہل فرم سے 1.282 ارب روپے کی وصولی کے مسائل کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے اس سلسلے میں اپنی سابقہ سفارشات کی پیروی اور ان معاملات کو پبلک اکاونٹس کمیٹی، ایف آئی اے اور نیب کو بھیجنے کی سفارشات پر عملدرآمد کا نوٹس لیا۔

مزید برآں، تیسرے کم ترین بولی دہندہ کو کنٹریکٹ دینے میں ملوث افسران کے خلاف کارروائی نہ ہونے پر کمیٹی نے ای اے ڈی کی عدم تعمیل پر سخت افسوس اور نوٹس لیا اور متعلقہ عملے کے خلاف فوری کاروائی کا مطالبہ کیا۔